کی پہلی کرن جب اتری ہے اس چمن میں
تو ہر کلی نے دیا ہے پیغام اپنے دہن میں
اٹھو کہ ڈھلی ہے نیا سویرا آیا
ہر درد کے اندھیرے میں اک دیا جھلملایا
یہ زندگی تو سفر ہے اسی میں چلتے رہنا
جو غم بھی آئے تو ہنس کے اسی کو سہتے رہنا
امید کا یہ دیا ہے دل میں جلائے رکھنا
یہ چکبست کی صدا ہے سدا مسکرائے رکھنا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
الفت کا جس سے مجھ کو دم بھر کو واسطہ ہے
یہ سمجھتے تھے کہ پاسِ وفا کرتے ہیں
لو وہ بھی کہہ دیا کہ ہم جفا کرتے ہیں
فطرت کی ایک شے ہے جسے ہم کہیں ہیں دل
موجِ نسیمِ صبح ہے یا درد کا اثر
امیدِ سحر لے کے چلا ہوں شبِ غم میں
منزل تو نہیں ہے مگر ایک راہ تو نکلی
وطن کی راہ میں جو سر کٹائے جاتے ہیں
انہی کے نام سے یہ باغ مسکراتے ہیں