وطن کی سے آئے ہیں اور اسی میں ملیں گے ہم
اسی کی گود میں کھیلتے تھے اسی میں سو جائیں گے ہم
ہر ایک ذرہ ہے پیارا مجھے اس سر زمین کا
یہاں کی آب و ہوا میں ہے نغمہ میری کا
جو اس کی راہ میں مٹ گئے انہیں سلام کریں
انہی کے دم سے یہ گلشن ہے انہی کا نام کریں
چلو کہ پھر سے جگائیں ہم اس چمن کی بہار
کہ چکبست کا پیغام ہے بس الفت اور پیار
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
الفت کا جس سے مجھ کو دم بھر کو واسطہ ہے
یہ سمجھتے تھے کہ پاسِ وفا کرتے ہیں
لو وہ بھی کہہ دیا کہ ہم جفا کرتے ہیں
فطرت کی ایک شے ہے جسے ہم کہیں ہیں دل
موجِ نسیمِ صبح ہے یا درد کا اثر
امیدِ سحر لے کے چلا ہوں شبِ غم میں
منزل تو نہیں ہے مگر ایک راہ تو نکلی
وطن کی راہ میں جو سر کٹائے جاتے ہیں
انہی کے نام سے یہ باغ مسکراتے ہیں