جب کھلے گلشن میں اور باغ میں آئی ہریالی
ہر سمت بہاروں کا میلہ ہر شاخ پہ رنگ و خوشحالی
کوئل کی صدا ہر آم پہ ہے اور کی ہے متوالی
یہ پھاگن کا موسم آیا ہے لے آیا رنگ اور پیالی
ہر گلی میں ہے دھوم مچی اور ہر آنگن ہولی والی
سب کھیل رہے ہیں رنگ یہاں کوئی پیلا کوئی لال و حالی
یہ سارے نظارے دیکھ کے کہہ دے نظیر کہ ہے خوشحالی
قدرت نے سجایا ہے یہ چمن ہر شے ہے پھولوں والی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو اس انجمن میں ہیں بیٹھتے تو مزاج اس کے سے ہم کو واں
کبھی عجز ہے کبھی بیم ہے کبھی رسم ہے کبھی داب ہے
وہ ادھر سے جا کے جو آتا ہے اسے دونوں حال سے دل میں یاں
کبھی سوچ ہے کبھی فکر ہے کبھی غور ہے کبھی تاب ہے
جو وہ بعد بوسہ کے ناز سے ذرا جھڑکے ہے تو نظیرؔ کو
کبھی مصری ہے کبھی قند ہے کبھی شہد ہے کبھی راب ہے
لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سے
اتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سے
فندقیں بزم میں دیکھ اس کے سر انگشتوں سے
رشتۂ ربط نے لی راہ کف دستوں سے
روبرو ہووے جو چشمان بتاں سے اے دل
ڈرتے رہنا ہی مناسب ہے سیہ مستوں سے