یہ زر یہ زمین یہ مال و متاع سب یاں کا یہیں رہ جائے گا
جو آیا ہے وہ جائے گا یہاں کون سدا رہ جائے گا
یہ ٹاٹ محل یہ باغ و سب دھول میں اک دن مل جائے گا
جب کا بنجارا آیا تو سارا اثاثہ لد جائے گا
نہ بیٹا نہ بیٹی نہ مال و زر نہ یار کوئی سنگ جائے گا
یہ کرم ہی تیرے کام آئے گا جو نیک ہے وہ پھل جائے گا
تو نیکی کما اس دنیا میں یہ نام ہی باقی رہ جائے گا
کہتا ہے نظیر یہ سچ سن لے تو خالی ہاتھ ہی جائے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
ہر ایک مقام سے آگاہ ہے وہ سارا جہان
جسے دیا ہے خدا نے دماغ اور دل بھی
کچھ پاس تھے تو کچھ نہیں، کچھ آس تھے تو کچھ نہیں
بنجارا پن ہے زندگی، ہر شے مسافر کی طرح
دیکھی قلندروں کی طرح آنکھ کھول کر
دنیا کی گردشوں کو پھرا ہوں ٹہل کر