یہ زر یہ زمین یہ مال و متاع سب یاں کا یہیں رہ جائے گا
جو آیا ہے وہ جائے گا یہاں کون سدا رہ جائے گا
یہ ٹاٹ محل یہ باغ و سب دھول میں اک دن مل جائے گا
جب کا بنجارا آیا تو سارا اثاثہ لد جائے گا
نہ بیٹا نہ بیٹی نہ مال و زر نہ یار کوئی سنگ جائے گا
یہ کرم ہی تیرے کام آئے گا جو نیک ہے وہ پھل جائے گا
تو نیکی کما اس دنیا میں یہ نام ہی باقی رہ جائے گا
کہتا ہے نظیر یہ سچ سن لے تو خالی ہاتھ ہی جائے گا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو اس انجمن میں ہیں بیٹھتے تو مزاج اس کے سے ہم کو واں
کبھی عجز ہے کبھی بیم ہے کبھی رسم ہے کبھی داب ہے
وہ ادھر سے جا کے جو آتا ہے اسے دونوں حال سے دل میں یاں
کبھی سوچ ہے کبھی فکر ہے کبھی غور ہے کبھی تاب ہے
جو وہ بعد بوسہ کے ناز سے ذرا جھڑکے ہے تو نظیرؔ کو
کبھی مصری ہے کبھی قند ہے کبھی شہد ہے کبھی راب ہے
لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سے
اتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سے
فندقیں بزم میں دیکھ اس کے سر انگشتوں سے
رشتۂ ربط نے لی راہ کف دستوں سے
روبرو ہووے جو چشمان بتاں سے اے دل
ڈرتے رہنا ہی مناسب ہے سیہ مستوں سے