میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زر دار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نماز یاں
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
ہر ایک مقام سے آگاہ ہے وہ سارا جہان
جسے دیا ہے خدا نے دماغ اور دل بھی
کچھ پاس تھے تو کچھ نہیں، کچھ آس تھے تو کچھ نہیں
بنجارا پن ہے زندگی، ہر شے مسافر کی طرح
دیکھی قلندروں کی طرح آنکھ کھول کر
دنیا کی گردشوں کو پھرا ہوں ٹہل کر
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی