اس کی ہر گلی میں تنہائی بستی ہے
دیواروں پر لکھی ہوئی خاموشی ہنستی ہے
گزرا ہوا زمانہ اب سا لگتا ہے
ہر راہگزر پر ایک بچھڑا سایا رکھتا ہے
میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں وہ چہرہ وہ آواز
جو کھو گئی ہے بھیڑ میں لے کے میرا ہر راز
کہہ دے کوئی انشا سے یہ دل کا فسانہ اب
تنہا ہے اس شہر میں بھی ایک دیوانہ اب
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
دل مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ دل جدا نہیں
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں