یہ ایک آئینہ ہے، ہر شے اُس کا عکس ہے
جو دیکھتا ہے اپنے اندر، وہ ہی اُس کا نقش ہے
میں اور تو کا جھگڑا کیا، سب ایک ہی سے بنا
قطرہ بھی ہے سمندر یہاں، سمندر بھی ایک بوند ہے
خاموشی میں چھپا ہے سب، ہر راز ہر افسانہ بھی
جو سن سکے وہ سن لے اب، ہر سانس ایک ترانہ ہے
اے درد فنا ہو جا اگر تجھے بقا کی چاہ ہے
مٹ جا تو پھر تو رہ گا، مٹنا ہی یہاں رستہ ہے
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے