ڈھلتی ہوئی یہ شام ہے دلی کے بام پر
بکھری ہوئی ہے دھوپ کسی طاقِ جام پر
گلیوں میں گونج اٹھتی ہے آوازِ اذاں کہیں
اور کی دھڑکنوں میں ہے ایک امتحان کہیں
اجڑے دیارِ کی کیا داستان کہوں
ہر گوشۂ مکان میں چھپی ایک فغاں کہوں
ذوق اپنے شہر کا یہ فسانہ لکھے گیا
مر کر بھی اس زمین کا ترانہ لکھے گیا
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو دن چار دن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
شاید یہ جانتا تھا کہ تو آنے والا ہے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے خدمتِ آقا نہ کرو تم