گر نہ اندوہ فرقت بیاں ہو جائے گا
بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
زہرہ گر ایسا ہی شام میں ہوتا ہے آب
پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا
لے تو لوں سوتے میں اس کے پانو کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
خار گل بہر دہان گل زباں ہوجائے گا
گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہوجائے گا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے