تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بچپنے کا ساتھ ہے پھر ایک سے دونوں کے دکھ
کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں اور
کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بارش سنگ ملامت میں بھی وہ ہم راہ ہے
میں بھی بھیگوں خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کسان
جسم اور اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں