تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا
زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی
کھلے دریچے پہ اک دان چھوڑ گیا
جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا
بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا
نکل گیا کہیں ان دیکھے پانیوں کی طرف
زمیں کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا
عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے
جو گر گئی تو یوں ہی نیم جان چھوڑ گیا
نہ جانے کون سا آسیب میں بستا ہے
کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا
عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگل
کس انتہا پہ مرا مہربان چھوڑ گیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں