کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے
نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو
اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے
ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہو
مقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے
کیا چل سکیں گے جن کا فقط مسئلہ یہ ہے
جانے سے پہلے رخت جانا چاہیے
سارا جوار بھاٹا مرے میں ہے مگر
الزام یہ بھی چاند کے سر جانا چاہیے
جب بھی گئے عذاب در و بام تھا وہی
آخر کو کتنی دیر سے گھر جانا چاہیے
تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں