جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ کر کرتے رہے
آج آیا ہے ہمیں بھی ان اڑانوں کا خیال
جن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں