اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
مجھ میں تیرا تھا کیا تھا
تیرے جانے پہ اب کے کچھ نہ کہا
میں ڈر تھا ملال تھا کیا تھا
برق نے مجھ کو کر دیا روشن
تیرا عکس جلال تھا کیا تھا
ہم تک آیا تو بہر لطف و کرم
تیرا وقت زوال تھا کیا تھا
جس نے تہہ سے مجھے اچھال دیا
ڈوبنے کا خیال تھا کیا تھا
جس پہ دل سارے عہد بھول گیا
بھولنے کا سوال تھا کیا تھا
تتلیاں تھے ہم اور قضا کے پاس
سرخ پھولوں کا جال تھا کیا تھا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں