کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا
واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت
اس سے کیا ملیے جو ہر روز کہے کل ملنا
کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم
شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا
اس کا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے
دشت امید میں اندیشے کا بادل ملنا
دامن شب کو اگر چاک بھی کر لیں تو کہاں
نور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں