چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف
مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی
دن بہل جاتا ہے لیکن ترے دیوانوں کی
شام ہوتی ہے تو نہیں دیکھی جاتی
تمکنت سے تجھے رخصت تو کیا ہے لیکن
ہم سے ان آنکھوں کی حسرت نہیں دیکھی جاتی
کون اترا ہے یہ آفاق کی پہنائی میں
آئنہ خانے کی نہیں دیکھی جاتی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں