ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
وعدۂ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق
مژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں
شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے لیکن
ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو
تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
وائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ
میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے