زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم
ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو
نالۂ بلبل کا اور خندۂ گل کا نمک
شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے
دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد
زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے