ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن
تھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے
یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے
رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
عشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے