تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
تیری فرصت کے مقابل اے عمر
برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں
قید ہستی سے رہائی معلوم
اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
نشۂ رنگ سے ہے واشد
مست کب بند قبا باندھتے ہیں
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
اہل تدبیر کی واماندگیاں
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ
ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں
میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
افسردہ دل ہا رنگیں
شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
قید میں بھی ہے اسیری آزاد
چشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں
شیخ جی کعبے کا جانا معلوم
آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
دست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں
تیرے بیمار پہ ہیں فریادی
وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے