پھر اس انداز سے آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنان خطۂ
اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
روکش سطح چرخ مینائی
سبزہ کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا روئے آب پر کائی
سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
چشم نرگس کو دی ہے بینائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے بادہ پیمائی
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
شاہ دیں دار نے شفا پائی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے