نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
رگ لیلیٰ کو دشت مجنوں ریشگی بخشے
اگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پر شاید بادبان کشتی مے تھا
ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی
اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں
نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
ڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے