نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا
محبت تھی سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موج بوئے سے ناک میں آتا ہے دم میرا
رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی
زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے