گلہ ہے شوق کو میں بھی تنگئ جا کا
گہر میں محو ہوا اضطراب کا
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا
دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کو
عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے