گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
تب اماں میں دی برد لیالی نے مجھے
نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم
لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
کر دیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے
ہوس کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
نشہ بخشا غضب اس ساغر خالی نے مجھے
بسکہ تھی فصل خزان چمنستان سخن
رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
کھو دیا سطوت اسماۓ جلالی نے مجھے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے