گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
جسے ہو روز سیاہ میرا سا
وہ شخص دن نہ کہے کو تو کیونکر ہو
ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور
فراق یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے