دیا ہے اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیے
ہمیں جواب سے قطع ہے کیا کہئے
حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے
ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے
کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے