دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
ہلتے ہیں خود بہ خود مرے اندر کے پاؤں
ہے جوش بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے