دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
بن گیا ہیں تیغ یار کا سنگ فساں
مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
جانتا ہے محو پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
میرے خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے
بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے
وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
ہاں نشاط آمد فصل بہاری واہ واہ
پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے