بساط عجز میں تھا ایک یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
خیال مرگ کب تسکیں آزردہ کو بخشے
مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی
نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے