بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ہستی ہماری اپنی پر دلیل ہے
یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
سختی کشان کی پوچھے ہے کیا خبر
وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق
جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے