عرض نیاز کے قابل نہیں رہا
جس پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے