یوں سجا کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ
سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا
سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب
شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے
دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ
اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا
حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے