یہ کس خلش نے پھر اس میں آشیانہ کیا
پھر آج کس نے ہم سے غائبانہ کیا
غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی
سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا
خوشا کہ آج ہر اک مدعی کے لب پر ہے
وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا
وہ حیلہ گر جو وفا جو بھی ہے جفاخو بھی
کیا بھی فیضؔ تو کس بت سے دوستانہ کیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے