شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزم خیال میں ترے کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی
جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی
آخر شب کے ہم سفر فیضؔ نہ جانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے