حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
سر پر ہیں وند سر عرش خدا ہے
کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میں
یہ کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے
ملتا ہے خراج اس کو تری نان جویں سے
ہر بادشہ وقت ترے در کا گدا ہے
ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سوا تر
وہ رنگ جو ناکردہ گناہوں کی سزا ہے
احسان لیے کتنے مسیحا نفسوں کے
کیا کیجیے دل کا نہ جلا ہے نہ بجھا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے