گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھو
ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو
وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
اک تم مرے محبوب نظر تو دیکھو
وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی ان کا جگر تو دیکھو
دامن درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اک دن دل پرخوں کا ہنر تو دیکھو
صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا افق
فیضؔ تابندگئ دیدۂ تر تو دیکھو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے