اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طواف شمع وفا تھی رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصورؔ ہوئے فرہادؔ ہوئے
اک کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے ناشاد ہوئے
فیضؔ نہ ہم یوسفؔ نہ کوئی یعقوبؔ جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے