اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
دل ٹھہرے تو سنائیں درد تھمے تو بات کریں
شام ہوئی پھر جوش قدح نے بزم حریفاں روشن کی
گھر کو آگ لگائیں ہم بھی روشن اپنی کریں
قتل دل و جاں اپنے سر ہے اپنا لہو اپنی گردن پہ
مہر بہ لب بیٹھے ہیں کس کا شکوہ کس کے ساتھ کریں
ہجر میں شب بھر درد و طلب کے چاند ستارے ساتھ رہے
صبح کی ویرانی میں یارو کیسے بسر اوقات کریں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے