یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
مرے فسانۂ کو مری زباں سے سنو
سناؤ دل اپنا تو دم بہ دم فریاد
مثال نے مری ہر ایک استخواں سے سنو
کرو ہزار ستم لے کے ذکر کیا یک یار
شکایت اپنی تم اس اپنے نیم جاں سے سنو
خدا کے واسطے اے ہمدمو نہ بولو تم
پیام لایا ہے کیا نامہ بر وہاں سے سنو
تمہارے عشق نے رسوا کیا جہاں میں ہمیں
ہمارا ذکر نہ تم کیونکہ اک جہاں سے سنو
سنو تم اپنی جو تیغ نگاہ کے اوصاف
جو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو
ظفرؔ وہ بوسہ تو کیا دے گا پر کوئی دشنام
جو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں