واقف ہیں ہم کہ حضرت ایسے شخص ہیں
اور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیں
دیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدم
مجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں
جن پہ ہوں ایسے ظلم و ستم ہم نہیں وہ لوگ
ہوں روز بلکہ لطف و کرم ایسے شخص ہیں
یوں تو بہت ہیں اور بھی خوبان فریب
پر جیسے پر فن آپ ہیں کم ایسے شخص ہیں
کیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلم
ایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں
دیں کیا ہے بلکہ دیجئے ایمان بھی انہیں
زاہد یہ بت خدا کی قسم ایسے شخص ہیں
آزردہ ہوں عدو کے جو کہنے پہ اے ظفرؔ
نے ایسے شخص وہ ہیں نہ ہم ایسے شخص ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں