واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
یہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے
ہو ملاقات تو صفائی سے
اور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے
دل ربا کو ہے دل ربائی شرط
دل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے
گلہ ہوتا ہے آشنائی میں
آشنائی نہیں تو پھر کیا ہے
اللہ اللہ رے ان بتوں کا غرور
یہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے
آئی تو ٹل نہیں سکتی
اور آئی نہیں تو پھر کیا ہے
مگس قاب اغنیا ہونا ہے
بے حیائی نہیں تو پھر کیا ہے
بوسۂ لب شکستہ کو
مومیائی نہیں تو پھر کیا ہے
نہیں رونے میں گر ظفرؔ تاثیر
جگ ہنسائی نہیں تو پھر کیا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں