واں ارادہ آج اس قاتل کے میں اور ہے
اور یہاں کچھ آرزو بسمل کے میں اور ہے
وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج
ورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے
ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنی
دل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے
پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل ربا
باندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے
ہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کی
یہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے
گو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہم
آج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے
یوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔ
اس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں