تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہے
کیوں نہ وحشت میں چبھے ہر مو بشکل نیش تیز
خار کی تیرے دیوانے کی کاوش اور ہے
مطربو باساز آؤ تم ہماری بزم میں
ساز و ساماں سے تمہاری اتنی سازش اور ہے
تھوکتا بھی دختر رز پر نہیں مست الست
جو کہ ہے اس فاحشہ پر غش وہ فاحش اور ہے
تاب کیا ہمتاب ہووے اس سے خورشید فلک
آفتاب داغ دل کی اپنے تابش اور ہے
سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے
ابر مت ہم چشم ہونا چشم دریا بار سے
تیری بارش اور ہے اور اس کی بارش اور ہے
ہے تو گردش چرخ کی بھی فتنہ انگیزی میں طاق
تیری چشم فتنہ زا کی لیک گردش اور ہے
بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ
کیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں