شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
جوڑے کی گندھاوٹ قہر بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب
اور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی
ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے
قامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی
گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہے
تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی
نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن
باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی
ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفا
ہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی
محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹ
جالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی
وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال
ناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی
ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سے
اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں