سب رنگ میں اس کی مرے شان ہے موجود
غافل تو ذرا دیکھ وہ ہر آن ہے موجود
ہر تار کا دامن کے مرے کر کے تبرک
سربستہ ہر اک خار بیابان ہے موجود
عریانی تن ہے یہ بہ از خلعت شاہی
ہم کو یہ ترے میں سامان ہے موجود
کس طرح لگاوے کوئی داماں کو ترے ہاتھ
ہونے کو تو اب دست و گریبان ہے موجود
لیتا ہی رہا رات ترے رخ کی بلائیں
تو پوچھ لے یہ زلف پریشان ہے موجود
تم چشم حقیقت سے اگر آپ کو دیکھو
آئینۂ حق میں دل انسان ہے موجود
کہتا ہے ظفرؔ ہیں یہ سخن آگے سبھوں کے
جو کوئی یہاں صاحب عرفان ہے موجود
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں