قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا
منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ مرا
مجھ کو سوئے شکر گنج لے چلا
ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال
ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا
دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے
جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا
چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے
ہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا
جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی
آنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں