پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
جب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا
اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں
تو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا
گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ
اے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا
کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے
اے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا
دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار
لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا
کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر
تو نے اے آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا
دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار
تو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا
کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل
اور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں