نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا
جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط
لکھا کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا
ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پر
ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا
بلا سے گریۂ تو ہی کچھ اثر کرتا
اگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا
جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھے
بس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا
رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کی
اس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا
اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نے
حصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا
شب وصال میں بھی میری جان کو آرام
عزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا
نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا
وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں