نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
خدا آگاہ ہے کی خبرداری سے ہاتھ آیا
نہ ہوں جن کے ٹھکانے ہوش وہ کو کیا پہنچے
کہ رستہ ہاتھ آیا جس کی ہشیاری سے ہاتھ آیا
ہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتنا
کوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا
اگرچہ مال دنیا ہاتھ بھی آیا حریصوں کے
تو دیکھا ہم نے کس کس ذلت و خواری سے ہاتھ آیا
نہ کر ظالم دل آزاری جو یہ دل منظور ہے لینا
کسی کا دل جو ہاتھ آیا تو دل داری سے ہاتھ آیا
اگرچہ خاکساری کیمیا کا سہل نسخہ ہے
ولیکن ہاتھ آیا جس کے دشواری سے ہاتھ آیا
ہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحت
نہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا
کوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھا
پر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا
ظفرؔ جو دو جہاں میں گوہر مقصود تھا اپنا
جناب فخر دیں کی وہ مددگاری سے ہاتھ آیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں